رات کے 11 بج چکے ہیں مسجدوں میں تراویح بھی ختم ہو چکی ہیں لیکن تاحال رویت حلال کمیٹی کی جانب سے عیدالفطر کا چاند نظر آنے کی کوئی خبر نہیں سنائی جا رہی خیر مزید آدھا گھنٹہ گزرتا ہے اور حالات ایک دم بدل جاتے  ہیں اور عید الفطر کا چاند نظر آجاتا ہے اور صبح عیدالفطر منانے کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔

پھر کیا ؟ نہ وقت دیکھا نہ ہی حالات موٹر سائیکل کو اسٹارٹ کیا اور بازار کی جانب رخ کیا کیوں کہ عید کی تیاریاں ہی مکمل نہیں ہیں خیر سب کچھ مکمل ہوتےہی جب گھڑی کو دیکھا تو فجر کی نماز کا وقت ہو چکا ہے پھر نماز پڑھ کر ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ بھائی نے آ کر زور سے ہلایا اور بولا: عید کی نماز ہونے والی جلدی اٹھو۔ میں نے جلدی جلدی غسل کیا کپڑے زیب تن کیے اور 3 کھجوروں سے منہ میٹھا کیا اور جامع مسجد کی جانب تکبیر پڑھتے پڑھتے رخ کر لیا۔
پہلی جامع مسجد میں پہنچا لیکن اس میں اب ایک بندے کی بھی گنجائش باقی نہ تھی پھر دوسری جامع مسجد کا رخ کیا تو اس مسجد میں بھی جگہ نہ ملی لیکن سڑک پر مسجد انتظامیہ کی جانب سے صفوں کا بندوبست کیا گیا تھا خیر ادھر نماز پڑھی اور ابو جان اور بھائیوں سے عید ملنے کے بعد کچھ محلے داروں کو عید کی مبارک باد دی اور گھر کو چل دیا۔
گھر پہنچتے ہی سب سے پہلے حکم ملا کہ چاچو کے گھر عید ملنے کیلئے اور سلام کرنے کو جانا ہے پھر میں اور میرا بھائی چاچو کے گھر پہنچ گئے۔عید کی مبارکباد دینے کے بعد پھر اجازت چاہی اور واپس گھر کا رخ کیا۔
پھر میرا ایک دوست ایسا تھا جو صبح سے میرا انتظار کر رہا تھا لیکن میری جانب سے تاخیر ہوتے دیکھ کر وہ واپس نییند پوری کرنے میں مصروف ہوگیا اسے فون کر کے اٹھایا اور یہاں سے خواری کا آغاز شروع ہوتا ہے۔خواری اس طرح سے کہ ہمارے دوستوں کو اکٹھا کرنا سب سے بڑا اور مشکل کام ہے خصوصا نعمان اسلم جس کو پہلے گھر سے نکالنا بڑا مشکل کام ہوتا  اور اگر نکل آئے تو واپس جانے کی بہت جلدی ہوتی ہے۔
خیر ہم سب گھنٹے کی محنت کے بعد اکٹھے ہوئے اور اپنے ایک قریبی دوست کے گھر جانے کا پلان فائنل کیا جس کا گھر میرے نقشے سے باہر تھا اس لیئے وہ نامعلوم مقام تھا لیکن تقریبا آدھا گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم اس کے گھر پہنچ گئے اور اس دوست کا نام عثمان خان تھا۔میرے دوستوں کی ایک لمبی قطار  موجود تھی جس میں ہمارے ٹک ٹاکر دوست مصطفی جاوید ،کاروباری بندہ نعمان اسلم،صحت مند بندہ عجب خان،نیک بندہ سمیر غفار،دیہاتی بندہ ذیشان اقبال اور ایک پٹھان دوست بھی تھا جس کا نام وسعی خٹک تھااور میں کدھر گیا جی ہاں ایک شریف سا لڑکا مزمل شفیق بھی تھا۔
خیر سب سے عثمان ملا اور پھر عثمان نے ہماری خوب خدمت کی باتیں کر کر کہ دوپہر کا وقت آ چڑھا اور عثمان نے بڑی ہی مزیدار بریانی کھلائی جو زندگی بھر ہمیں یاد رہے گی ۔
پھر سب دوستوں نے ظہر کی نماز ادا کی اور پھر سے گپ شپ کے ایک طویل سلسلے کا آغاز ہو گیا ۔پھر سب شام تک ایسے ہی چلا اور پھر ہم نے عثمان کا شکریہ ادا کیا اور واپس گھر پہنچے اور آرام کر کر کر کے آرام بھی خراب ہوگیا اور عید کا دوسرا دن آگیا اور میں تاحال آرام ہی کر رہا ہوں۔